تصویر کے کاپی رائٹ FB/BBC

ممبئی کے حامد نہال انصاری چھ سال بعد پاکستان سے منگل کو انڈیا واپس آ گئے ہیں۔

سنہ 2012 میں حامد نے فیس بک سے بننے والی ایک دوست سے ملنے کے لیے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ پاکستان کے شہر کوہاٹ میں انھیں بغیر دستاویز کے سفر کرنے اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’چھ سال بعد وطن لوٹنے کی خوشی بیان نہیں کر سکتا‘

لاہور سے لاپتہ ہونے والی خاتون صحافی دو برس بعد بازیاب

عدالت نے انھیں تین برس قید کی سزا سنائی جو 16 دسمبر کو مکمل ہوئی۔ پاکستانی جیل سے رہائی کے بعد حامد کی منگل کو واہگہ سرحد پر اپنے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی۔

حامد کے اہل خانہ انھیں لینے امرتسر پہنچے تھے۔ انھوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: 'آج کا دن ہمارے لیے دن عید کے جیسا ہے۔'

اس موقع پر حامد کی والدہ نے کہا: 'یہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے۔ ہم بہت کم حیثیت لوگ ہیں اور ہم خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ حکومت نے پہلے دن سے ہی اسے معاملے پر مثبت طریقے سے ہماری مدد کی ہے۔

’سرکاری اہلکاروں کا رویہ اہل خانہ کی طرح تھا۔ ہماری آواز بہت کمزور تھی لیکن میڈیا ہماری آواز بن گیا۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی مدد کی۔ برطانیہ سے بھی لوگوں نے مدد کی۔ اروند شرما نامی وکیل نے بغیر کسی فیس کے سپریم کورٹ میں ہمارا مقدمہ دائر کیا۔‘

حامد نہال انصاری آج اگر اپنے اہلخانہ کے ساتھ ہیں تو اس سلسلے میں مدد کرنے والوں کی فہرست طویل ہے جن میں سے ایک نام پاکستان میں انسانی حقوق کی وکیل رخشندہ ناز کا بھی ہے۔

حامد کی رہائی کے لیے قانونی جنگ کا تجربہ کیسا تھا؟ اس کے جواب میں رخشندہ نے بی بی سی ہندی کو تفصیل سے بتایا کہ وہ کس طرح حامد کے لیے جیل میں سامان لے جاتی تھیں اور اسی سے وہ ان کے لیے کھیر بنا کر رکھتا تھا۔

Image caption 'اس کامیابی کا پہلا کریڈٹ زینت کو جانا چاہیے جنھوں نے تحقیقاتی رپورٹنگ کی اور اس کیس کی تمام معلومات یکجا کی' حامد کی کہانی رخشندہ کی زبانی

17 دسمبر کو حامد کی جیل سے رہائی کی تیاری ہو رہی تھی اور میں حامد سے آخری بار جیل میں ملنے پہنچی۔

حامد کے بارے میں مجھے انڈیا کی سماجی کارکن ریتا مندچندا سے پتہ چلا تھا جبکہ پاکستانی صحافی اور سماجی کارکن زینت شہزادی نے اس کے متعلق عدالت میں اپیل کی تھی اور اسی نے حامد کی تحویل کی ساری معلومات اکٹھا کی تھی۔

میں اس وقت تین سال تک پاکستان میں نہیں تھی۔ جب میں آئی تو زینت شہزادی پاکستان سے لاپتہ تھی۔ اب وہ مل گئی ہے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے۔ اسی وقت سے میں حامد کے رابطے میں ہوں۔

حامد کو پہلی مرتبہ پشاور کی جیل میں پیش کیا گیا۔ کہا گیا کہ اسے جاسوسی کے الزام میں سزا ملی ہے۔ میں نے ان کی ماں سے رابطہ کیا تو انھیں یقین آیا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔

میں نے جب یہ کیس دیکھا تو مجھے یہ سچا معاملہ لگا۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا سے منسلک تھا۔ اس مقدمے کو سینیئر وکیل قاضی محمد انور بھی دیکھ رہے تھے اور انھوں نے جس طرح اس مقدمے پر کام کیا آج اسی کی وجہ سے کامیابی ملی ہے۔

Image caption پاکستان کی شہری اور انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل رخشندہ ناز

میں نے اس معاملے کے کاغذات حامد کے امی فوزیہ انصاری اور ریتا منچندا سے لیے۔ اگرچہ مقدمہ پہلے ہی درج ہو چکا تھا لیکن میں بھی اس پر نئے سرے سے کام کرنا چاہتی تھی۔

اس کامیابی کا پہلا کریڈٹ زینت کو جانا چاہیے جنھوں نے تحقیقاتی رپورٹنگ کی اور اس کیس کی تمام معلومات یکجا کیں۔ ان کے بغیر حامد کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چل پاتا۔

حامد جس لڑکی کی تلاش میں پاکستان آئے تھے وہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے کوہاٹ کے رہائشی تھی۔ لڑکی نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور زینت ان سے ملنے گئی تھیں۔

زینت نے ان کے والد اور دوستوں سے بھی ملاقات کی جنھیں حامد اور اس لڑکی کے بارے میں پتہ تھا۔ بہرحال اب اس لڑکی کی شادی ہو چکی ہے۔

مجھے اب بھی یاد ہے کہ جب میں حامد سے ملی تو اسے یقین ہی نہیں تھا کہ اسے کبھی رہائی نصیب ہو گی۔ میں نے اسے یقین دلایا اور کہا کہ اب دن گننے شروع کر دو۔

میں حامد سے ملنے جب بھی جاتی اس کے لیے کچھ ضرور لے جاتی۔ چونکہ حامد کو صرف مجھے یا قاضی صاحب کو ہفتے میں ایک دن فون کی اجازت تھی اس لیے وہ اپنی ضرورت کی چیز ہمیں بتا دیا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ fb

سکیورٹی کی وجہ سے ہم اس کے لیے کچا کھانا ہی لے جا سکتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ حامد میرے لائے ہوئے سامان سے ہی میرے لیے کھیر بنا کر رکھتا تھا۔

وہ کئی دنوں تک اس کی تیاری کرتا اور کہتا کہ 'میں روز آپ کا انتظار کرتا ہوں۔ آپ کے کھیر بناتا ہوں اور جب آپ نہیں آتیں تو شام کو خود ہی کھا لیتا ہوں۔'

اسے یاد کر کے آج بھی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

اس نے جیل میں اپنے ہاتھوں سے کئی چیزیں بنانی سیکھ لی تھی۔ ماچس کی تیلیوں سے بنا ہوا گھر، اپنے ہاتھ سے سجایا ہوا پرس جن سے پیار جھلکتا تھا۔ کئی بار جیل کے اہلکار کہتے کہ حامد تو آپ کا چہیتا ہے۔

Image caption حامد کے اہل خانہ حامد کے اہل خانہ اس سے کیوں نہیں مل پائے؟

حامد کے گھر والوں نے ویزا کے لیے کئی بار درخواست دی۔ ایک بار ویزا مل بھی گیا لیکن اسی وقت حامد کی والد کے پاؤں میں فریکچر ہو گیا اور پھر ان کا آنا ملتوی ہو گيا۔

حامد اپنی ماں کو جیل سے خط لکھتا تھا اور تمام باتیں بتاتا تھا۔ اس نے ایک خط میں لکھا کہ وہ موٹا ہو گیا ہے اور اس کے کپڑے چھوٹے ہو گئے ہیں۔

اس کیس میں بہت سے چیلنجز تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ دیکھو کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور میں ایک بھارتی کے لیے مقدمہ لڑ رہی ہوں۔ میں صرف یہ جانتی ہوں کہ یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں مذہب، ذات، قومیت وغیرہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیے

’چھ سال بعد وطن لوٹنے کی خوشی بیان نہیں کر سکتا‘

لاہور سے لاپتہ ہونے والی خاتون صحافی دو برس بعد بازیاب

میرے گھر کے لوگوں نے مجھے اس سے دور رہنے کے لیے کہا کیونکہ اس میں جان کا خطرہ تھا۔ کچھ لوگ سوچتے کہ مجھے اس کے لیے بہت پیسے مل رہے ہیں۔

اس سے قبل سنہ 1999 میں جب میری وکالت کو صرف تین سال ہی ہوئے تو مجھے دہلی کے رہائشی اشوک کمار کا مقدمہ ملا تھا۔

انھیں لنڈی کوتل کے قبائلی علاقے سے پکڑا گیا تھا اور یہ کیس مجھے پشاور کے ایک چرچ سے ملا تھا۔ قدرے پریشانی کے بعد انھیں نواز شریف کی حکومت میں واہگہ سرحد سے ہندوستان بھیج دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RUKHSHANDA NAZ

اس کے علاوہ سنہ2017 میں دہلی کے رمیش نے مجھ سے رابطہ کیا جن کی اہلیہ کراچی میں پھنس گئی تھی۔ مجھے جموں سے یہ مقدمہ دیا گیا اور کہا گیا کہ میں اس جوڑے کی مدد کروں۔

مجھے ہر ماہ حامد سے ملنے کی اجازت تھی لیکن ہنگامی صورتحال میں ملاقات ایک سے زیادہ بار بھی ہو جاتی تھی۔

میں پشاور میں رہتی ہوں جہاں سے جیل صرف 15 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ خرچ کچھ خاص نہیں آیا۔ گھر سے جیل جانے کے لیے پیٹرول اور حامد کے کھانے کا معمولی خرچہ۔

مجھے یاد ہے ایک بار اس کی ماں نے کہا کہ حامد گوشت نہیں کھاتا تو میں نے ان سے کہا کہ اب وہ برگر بھی کھاتا ہے اور بریانی بھی۔

اس مقدمے میرے کوئی لاکھوں روپے نہیں لگے اور قاضی صاحب نے بھی کوئی معاوضہ نہیں لیا اپنا بچہ سمجھ کر کام کیا۔ ہم نے اپنے خاندان کا حصہ سمجھ کر کام کیا۔ ہم عید میں اس کے لیے نئے کپڑے اور مٹھائی بھی لے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RUKHSHANDA NAZ حامد کی ہیروگیری

حامد سے غلطی ہوئی جس میں ان کے دوست بھی شامل تھے۔ انھوں نے حامد کو فلموں کے ہیرو کی طرح خواب دکھائے اور حامد اسے پورا کرنے نکل پڑے۔

پہلی ملاقات میں حامد کو مجھ پر اعتماد نہیں تھا۔ دوسری ملاقات میں جب وہ مطمئن ہو گيا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تم کوئی سلمان خان ہو جو ایک لڑکی کو لے جاؤگے۔

اب وہ انڈیا چلا گیا اور میں اس سے ملنے نہیں گئی۔ لیکن جب بھی وہ اپنی ماں سے ملے گا میں میڈیا پر ہی اسے دیکھ کر خوش ہو لوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RUKHSHANDA NAZ کون ہیں رخشندہ ناز؟

رخشندہ ناز کوئٹہ میں پیدا ہوئیں، پھر وہ حسن ابدال آ گئيں جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم گرودرواہ پنجہ صاحب کے سکول سے حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔

انھوں نے انگلینڈ کی کوونٹری یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا۔ وکالت کرتے ہوئے انھیں 25 سال ہو گئے ہیں اور اب وہ پشاور میں رہتی ہیں۔

رخشندہ فی الحال وومن ریجنل نیٹ ورک سے منسلک ہیں جس میں وہ ملک اور بیرون ملک کا کام دیکھتی ہیں۔ اس میں انڈیا، پاکستان، افغانستان اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان انڈیا فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کی بھی رکن ہیں۔ وہ کاروان امن بس سروس کا بھی حصہ رہی ہیں۔