تصویر کے کاپی رائٹ Reuters Image caption محمد بن سلمان اس رسمی فیملی فوٹو میں قطار کے آخر میں کھڑے نظر آئے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے جی 20 اجلاس ایک امتحان ثابت ہونا ہی تھا کیوں کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ محمد بن سلمان ایک بین الاقوامی سٹیج پر نظر آ رہے ہیں۔

بڑے پیمانے پر یہ الزمات لگ رہے ہیں کہ خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی حکومت میں بہت اعلیٰ سطح سے آئے تھے۔

تو بیونس آئرس میں ہونے والا اجلاس ایک موقع ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ان الزامات کی وجہ سے ولی عہد کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے بھی یا نہیں۔

محمد بن سلمان کے بارے میں مزید پڑھیے

خاشقجی کا قتل: کیا سعودی ولی عہد کا مستقبل خطرے میں؟

سعودی قیادت میں ڈرامائی انقلاب

خاشقجی بحران: محمد بن سلمان پر کیا اثر پڑے گا؟

محمد بن سلمان کا راستہ خطے کے لیے پر خطر

اس کے پہلے اشارے اس فیملی فوٹو سے ملے جو اس قسم کے عالمی اجلاس میں کھینچی جاتی ہے۔ آپس میں بات چیت، مصاحفے اور حرکات و سکنات ایسا بہت کچھ ظاہر کر دیتی ہیں جو پریس کو دیا گیا ایک سفارتی یا سیاسی بیان چھپا سکتا ہے۔

سعودی ولی عہد اس تصویر میں قطار کے آخر میں کھڑے نظر آئے۔ وہ جی 20 میں واحد عرب لیڈر ہیں اور سوٹ پہنے حکمرانوں کے سمندر میں اپنے روایتی لباس میں آرام سے نظروں میں آ رہے تھے۔ کئی موقعوں پر ان کے چہرے پر غیر یقینی اور پریشانی نظر آئی۔ بعض حکمرانوں نے ان سے مختصر بات چیت کی اور کئی نے تو خود آگے بڑھ کر مصاحفہ کیا۔

یہ لیڈر جانتے ہیں کہ ان کے بعض ووٹر سعودی حکمران کو کتنا خطرناک سمجھتے ہیں۔ ایک شخص جن کا رویہ ان کی طرف بالکل مختلف تھا وہ ہیں روسی صدر پوتن۔ وہ پرتپاک انداز میں محمد بن سلمان کی طرف بڑھے اور بڑی سے مسکراہٹ کے ساتھ دونوں نے ہائی فائیو کیا۔ روسی حکمران مغرب کے لبرل حکمرانوں کو غصہ دلانے کے ماسٹر ہیں اور اپنے اقدامات سے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سعودی عرب سے قریبی تعلقات ان کی سٹریٹیجک ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption روسی صدر پوتن پرتپاک انداز میں محمد بن سلمان کی طرف بڑھے اور بڑی سے مسکراہٹ کے ساتھ دونوں نے ہائی فائیو کیا

کئی لیڈروں نے ان سے مختصر اور رسمی بات چیت بھی کی ہے جن میں امریکہ، انڈیا، جنوبی کوریا، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور چین شامل ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے ان ملاقاتوں کی تصاویر ٹویٹ کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائی۔

یہ بھی پڑھیے

محمد بن سلمان نوجوانوں میں کیوں مقبول ہیں؟

نئے سعودی ولی عہد کے بارے میں پانچ اہم حقائق

سعودی ولی عہد: ’میں گاندھی یا منڈیلا نہیں‘

خاشقجی کے قتل کے بعد یہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کی ان سے پہلی ملاقات تھی اور ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریزا مے نے واضح الفاظ میں اپنا پیغام ان تک پہنچا دیا ہے۔ ٹریزا مے کے ترجمان کے مطابق انھوں نے ولی عہد سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترکی کی جانب سے خاشقجی کے قتل کی تحقیقات میں سعودی عرب مکمل تعاون کرے۔

ٹریزا مے نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ممالک میں یہ اعتماد پیدا کرنے کے لیے کہ ایسے شرمناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے سعودی عرب کو اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعودی ولی عہد سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے یمن کے تنازعے کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی حمایت کریں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا سعودی عرب کی امریکہ کو دھمکی کام کر گئی؟

کیا جمال خاشقجی کی ایپل واچ نے سب ریکارڈ کیا؟

اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters Image caption خاشقجی کے قتل کے بعد یہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کی ولی عہد سے پہلی ملاقات تھی

فرانس کے صدر میکراں بھی ولی عہد سے ملے اور خاشقجی کے قتل کے کیس میں بین الاقوامی تحقیقکاروں کو شامل تفتیش کرنے کا کہا۔ اس ملاقات کی فٹیج کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے میکراں ولی عہد سے کہہ رہے ہوں کہ انھیں پریشانی ہے کیوں کہ سعودی لیڈر ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔

سچائی یہ ہے کہ یہ اجلاس اس بات کی درست عکاسی کرتا ہے کہ ولی عہد اس وقت دنیا میں کہاں کھڑے ہیں۔ عالمی حکمران کو خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور خاص طور پر ولی عہد کے رویے پر غم و غصہ ہے اور کیوں کہ ابھی تحقیقات اپنے انجام کو نہیں پہنچی ہیں تو فی الحال یہ غصہ جلد ہوا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

عالمی رہنما یہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی عرب سے تعلقات ان کے قومی مفاد میں ہیں اور اس کے ساتھ تجارتی اور انٹیلیجنس تعلقات کا تحفظ ضروری ہے، تو ایسے میں سعودی عرب سے بات چیت کرتے رہنا ضروری ہے نہ کہ دور کھڑے اس پر پتھر پرساتے رہنا۔

جی ٹوئنٹی اجلاس میں عالمی حکمران ان سے مکمل طور پر تو نہیں کترائے لیکن ایک بات واضح ہے کہ ولی عحد کی ساکھ کو دھچکہ لگا ہے اور اسے بحال ہونے میں وقت درکار ہوگا جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ترکی کی جانب سے قتل کی تحقیقات مکمل ہونے پر ولی عہد کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔