تصویر کے کاپی رائٹ AFP/REUTERS

آپ ایک لمحے کے لیے ایک کمرے میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو تصور کریں جس میں خطے کے چار اہم رہنما موجود ہیں۔ ان سربراہان نے حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتے ہوئے دیکھی ہے۔

کمرے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، عراق کے نگراں وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ایک میز کے اردگرد بیٹھے ہوئے ہیں۔

وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر سن رہے ہیں جس میں وہ ’مشن کی کامیابی‘ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ، یا تمام، سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ لیکن وہ اس حوالے سے پریشان ہوں گے کہ اس ہنگامہ خیز ہفتے کے ان کے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے؟

اس تقریر کے بعد محمد بن سلمان کے لیے موجودہ خطرہ تو ٹل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایرانی افواج کتنی طاقتور ہیں؟

ایران نے کن امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا

’ایران چار امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنا رہا تھا‘

قاسم سلیمانی کا جنازہ پڑھانے والے پاکستانی کون ہیں؟

یہ سچ ہے کہ سعودی ولی عہد گذشتہ برسوں کے دوران اپنے بیان کے مطابق ’ایران کے رہنماؤں کی بری فطرت‘ کے خلاف بول چکے ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے بغداد میں اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے حکم کے بعد سعودی رہنما بھی کشیدگی کم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب اپنے اتحادی امریکہ اور اپنے دشمن ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ میں الجھنے سے خوفزدہ ہے۔

اگر اس جنگ کے دوران سعودی عرب بھی نشانہ بنتا ہے تو اس بات کی کوئی حتمی ضمانت نہیں کہ امریکہ اس کی طرف سے جوابی کارروائی کرے گا۔ گذشتہ سال بھی ایسا نہیں ہوا جب سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد الزام لگایا گیا کہ اس کے پیچھے ایران ہے۔

اس تجربے نے سعودی قیادت کے لیے شکوک و شبہات مزید بڑھا دیے کہ آیا وہ وائٹ ہاؤس میں موجود شخص پر اعتماد کر سکتے ہیں یا نہیں جو یہ بات کہہ چکا ہے کہ مشرق وسطی میں جاری جنگ میں وہ مزید شامل نہیں ہونا چاہتا۔ اور اس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنا شروع کر دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن ٹھہریں، کیا اب حالات بدل رہے ہیں؟ کیا ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں اب فوجی اقدام اٹھانے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے؟ یا کیا فوجی حکمت عملی کے ماہر قاسم سلیمانی نے امریکی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے غلط قدم اٹھائے اور ان کی برداشت کی حد پار کردی تھی؟

’آپ کو انتخابات کے بارے میں سمجھنا ہو گا۔‘ تصور کریں اگر بنیامین نیتن یاہو ایسا کہتے ہیں۔

یہ گفتگو اس جانب بڑھتی ہے کہ جب حال ہی میں ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے لوگوں نے ایک مظاہرے کے دوران بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان کا موقف کچھ ایسا ہو گا کہ ’ٹھیک ہے۔ کسی کو چوٹ نہیں لگی۔ کوئی زمینی نقصان بھی نہیں ہوا۔ سلیمانی نے سوچا ہو گا کہ وہ ایسا بڑا پیغام دینے کے بعد بچ جائیں گے۔ لیکن ٹرمپ نے شاید ایران میں 1979 کے دوران امریکی سفارت خانے کے حکام کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کے بارے میں سوچا۔ جس نے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کی مقبولیت گرا دی تھی۔‘

’یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بنغازی میں سنہ 2012 میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔ جس پر انھوں نے اوبامہ انتظامیہ پر تنقید کی تھی۔ انھوں نہ یہ بھی ٹویٹ کیا تھا کہ یہ واقع ’بنغازی مخالف‘ ہے۔ وہ انتخابات کے سال میں کمزور دکھتے ہوئے داخل ہونا نہیں چاہتے تھے۔‘

امریکی حکام نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو اپنے دفاع میں اٹھائے جانے والا اقدام کہتے ہوئے اسے جائز قرار دیا ہے تاکہ مستقبل میں امریکی مفاد پر کوئی ’بڑا‘ حملہ نہ کیا جاسکے۔ انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ صدر کی طرف سے ماضی میں کوئی اقدام نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ تحمل کا اشارہ تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کو بھی یہی امید رہے گی۔

گذشتہ سال اسرائیل کو اس بات پر شدید تحفظات تھے جب خطے میں مبینہ طور پر ایران کے حملوں کے خلاف امریکہ نے کوئی جوابی فوجی کارروائی نہیں کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سال کے اختتام پر اپنے ایک بیان میں اسرائیل کی افواج کے چیف آف سٹاف جنرل آویو کچاوی کا کہنا تھا کہ ’یہ بہتر ہو گا اگر ہم اکیلے نہ ہوں۔‘

اسرائیل میں دفاعی نامہ نگار الیکس فشمین نے سلیمانی پر حملے کے بعد کہا تھا کہ ’ہم اب اچانک تنہا نہیں رہے۔‘

’یہ حکمت عملی کا ایک معجزہ ہے۔‘

اسرائیل نے بھی اس طرح اپنے صف اول کے دشمن کا خاتمہ کر دیا۔

اسرائیلی تجریہ کاروں کے مطابق قاسم سلیمانی ایران کے فوجی اثر و رسوخ کو پراکسی گروہوں اور دیگر طریقوں کے تحت اسرائیل سمیت اس کے اردگرد ممالک میں بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اس خطے کو ’آگ کا دائرہ‘ سمجھتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکی ڈرون حملے پر اسرائیلی حکام خاموش رہے۔ اسی طرح جیسے سعودی عرب کسی بھی جوابی حملے کا نشانہ بننے کے خدشات کی وجہ سے محتاط رہا ہے۔

عبدالمہدی شاید یہ سمجھتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے کے حالاتے سے انھیں آگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔

امریکی حملے سے وہ اس رسا کشی کا توازن برقرار رکھنے میں ناکامیاب ہو گئے ہیں جسے وہ امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اتحاد سے مساوات میں رکھنے کے لیے کوشاں تھے۔

عراقی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے سفیروں کو طلب کرتے ہوئے ان پر عراق کو میدان جنگ بنانے پر تنقید کی ہے۔

وہ اس بات پر خوش ہوں گے کہ ایران نے صدر ٹرمپ کو جنگ کی راہ سے دور رکھنے کے لیے موزوں جواب بھی دے دیا جس میں ان کے اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے لیکن ان میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

لیکن وہ اب بھی پریشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ ایک غیر متواتر اتحادی ہونے کے باوجود مطالبات کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر عبدالمہدی پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ قوتوں کا ساتھ دینے میں خود کو محفوظ سمجھیں گے۔

عراق میں کئی ماہ تک ان کے خلاف جاری مظاہروں کے بعد اب وہاں موجود طاقتور شیعہ سیاستدانوں اور ملیشا گروہوں کو قانونی حیثیت ملنے کی ایک نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔

انھوں نے عراق کی خود مختاری پر امریکی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہاں موجود 5200 فوجیوں کا انخلا کیا جائے۔

یہ واضح نہیں کہ اس سے کیا ہوگا۔ لیکن سلیمانی کے قتل کے بعد کے حالات نے امریکی فوج کی موجودگی کے حوالے سے غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

عبدالمہدی نے کہا ہے کہ ’اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ ہم تیزی سے مزید تناؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

حسن نصراللہ کا یہی مقصد ہے۔

قاسم سلیمانی کے علاقائی پراکسی گروہوں کے نیٹ ورک کی ایک سینیئر شخصیت ہوتے ہوئے انھیں محسوس ہو رہا ہوگا کہ جنرل کے مشن اور ان کی موت کا بدلہ لینے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ڈرون حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مطابق اب انھیں اپنی توجہ امریکی فوجی اثاثوں کی طرف مرکوز کرنی ہوگی۔ اب تک انھوں نے اسرائیل کا ذکر نہیں کیا جو کہ جزب اللہ کا عمومی ہدف ہوتا ہے۔ شاید ایرانی سمجھتے ہیں کہ فی الحال باقی سب کے پیش نظر یہ کرنا ایک اچھا خیال نہ ہوگا۔

حسن نصراللہ شاید خطے کے اُس جانب کی کارروائیاں روک دیں گے۔ ان حالات کا مطلب نام نہاد ’مزاحمت کے اتحاد‘ کے لیے کیا ہوگا جبکہ اس کی بنیاد رکھنے والا اب جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

وہ اس خلاف ورزی کا مقابلہ کیسے کریں گے، وہ بھی ایسے حالات میں جب لبنان میں ہنگامہ آرائی کے دوران حزب اللہ کے سیاسی غلبے کو مقامی سطح پر چیلنجز درپیش ہیں۔

آپ یہ تصور کریں کہ جب کمرے میں یہ میٹنگ ختم ہوگی تو حزب اللہ کے چیف شامی صدر بشار الاسد کو کیا وضاحت پیش کریں گے جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی نایاب آمد کی وجہ سے مصروف ہیں۔

قاسم سلیمانی کی خاص مدد کے بغیر بشار الاسد شام میں خانہ جنگی سے شاید بچ نہ پاتے۔ ایرانی جنرل کی جانب سے بغاوت روکنے کے طریقہ کار کی وجہ سے ان کی ہلاکت پر شام کے لوگ خوشی منا رہے ہیں۔

لیکن اب شام میں ان کے اثر و رسوخ کے بغیر کیا حالات ہوں گے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ شام میں ایران کے اتحادی صدر پوتن انھی سوالات کا جواب ڈھونڈ رہے ہوں گے جن کے بارے میں اس کمرے کے لوگ پریشان ہیں۔

کیا یہ خطے سے نکلنے سے پہلے صدر ٹرمپ کی آخری کارروائی تھی، یا اس سے اب امریکہ گیم میں واپس آگیا ہے؟

اور کیا امریکہ نے اپنے اس حملے سے ایران کے اُن منصوبوں کو کمزوز بنا دیا ہے جن کے تحت وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں، یا خطے سے امریکی فوج کو باہر کرنے کے طویل مدتی مقصد کو بڑھاوا مل گیا ہے؟